چنڈی گڑھ 11 اگست (ایس او نیوز) ہریانہ کی سروکھاپ پنچایت نے ہریانہ سرکار سے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت وشوہندوپریشد اور بجرنگ دل پر ریاست کے تمام قصبوں میں پابندی عائد کرے۔
نیو انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق جب ہریانہ کی بعض پنچایتوں نے ضلع نوح میں فرقہ وارانہ فسادات کے بعد مسلمانوں کو بے دخل کرنے اور ان کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تو ریاست کی دیگر بعض کھاپ پنچایتوں نے دونوں کمیونٹیزکے درمیان امن قائم کرنے کے منصوبے بنانے آگے اگئی۔ ایسے میں سروکھاپ پنچایت نے وشو ہندو پریشد (VHP) اور بجرنگ دل کی سرگرمیوں پر ریاست بھر کے تمام گاؤں میں پابندی لگانے کا مطالبہ کردیا۔
رپورٹ کے مطابق ریاست میں 90 سے زیادہ کھاپ ہیں۔ اگلے سال ہونے والے اسمبلی اور پارلیمانی انتخابات میں کھاپ پنچایتوں کا دیہی علاقوں میں کافی اثر ورسوخ بہت زیادہ معنی رکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ان پنچایتوں کی کافی زیادہ اہمیت ہے۔
رپورٹ میں اس بات کی بھی جانکاری دی گئی ہے کہ حصار کے باس گاؤں میں بھارتیہ کسان مزدور یونین کے بینر تلے ایک مہا پنچایت کا انعقاد کیا گیا جس میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بھائی چارے کو مضبوط کرنے کی کال دی گئی۔ مہاپنچایت کا اہتمام کرنے والے سریش کوٹھ نے بتایا کہ چند لوگوں نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بگاڑنے کی کوشش کی، لیکن وہ بہت کم لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کو گاوں میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ہم انہیں چیلنج کرتے ہیں کہ اگر ان میں ہمت ہے تو وہ ہمارے مسلم بھائیوں کو گاؤں میں داخل ہونے سے روک کر دکھائیں۔
اخبار کے مطابق سور کھاپ پنچایت کے قومی ترجمان صوبے سنگھ سمین نے بتایاکہ کھاپ کے لیڈر آنے والے دنوں میں نوح کا دورہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ فی الحال مقامی انتظامیہ اجازت نہیں دے رہی ہے لیکن ایک بار حالات معمول پر آتے ہیں اور ہمیں اجازت مل جاتی ہے تو ہم وہاں جائیں گے اور دونوں فرقوں کے مقامی لوگوں سے بات چیت کریں گے اور ان کے درمیان امن قائم کرنے کی کوشش کریں گے کیونکہ وہ برسوں سے امن سے رہ رہے ہیں
انہوں نے مزید کہا: "وشوا ہندو پریشد (وی ایچ پی) اور بجرنگ دل کی سرگرمیوں پر ریاست بھر کے تمام دیہاتوں میں پابندی لگائی جانی چاہئے۔” چونکہ اسمبلی اور لوک سبھا دونوں الیکشن اگلے سال ہونے والے ہیں، سوبے سنگھ سمین نے شبہ ظاہر کیا کہ یہ سب کچھ کمیونٹیز کو تقسیم کرنے اور اس طرح ووٹروں کو پولرائز کرنے کی ایک بڑی سازش ہے۔
انہوں نے کہا کہ میوات میں امن بحال کرنے کے لیے ایک قرارداد منظور کی گئی ہے۔ مزید کہا کہ ایک غیر جانبدارانہ انکوائری کرانے اور مونو مانیسر اور بٹو بجرنگی کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اشتعال انگیز تقاریر اور ویڈیوز کے ذریعے لوگوں کو جھڑپوں پر اکسانے والوں کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیئے۔